ابنا: مزید اطلاعات کے مطابق کالعدم ملک دشمن جماعت کے دہشتگردوں نے آج پورے گلگت میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ آج صبح سے ہی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگرد پورے شہر میں دندناتے پھرتے نطر آرہے تھے البتہ سکیورٹی اداروں کی دہشتگردوں کی لگام دینے کی تمام تر کوشش ناکام نطر آئی۔ واضع رہے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے این ایل آئی کا شیعہ اہلکار بھی شہید ہوچُکا تھا۔ کالعدم سپاہ صحابہ کی حالیہ دہشتگردی میں مزید 10 شیعہ مومنین شہید ہوچُکے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بس روالپنڈی سے گلگت جارہی تھی اور چلاس کے مقام پر انہیں شناخت کرکے شہید کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دس بسیں گلگت کی جانب جارہی تھیں جن میں سے ایک بس میں ایف ۔سی کے اہلکار بھی تھے۔ یزیدیوں نے تمام بسوں کو روک کر شیعہ افراد کو شناخت کرکے شہید کیا۔تاریخ گلگت میں یہ انتہائی اہم واقعہ اور تشیع پر ہونے والا یہ انتہائی سخت نوعیت کا ظلم شمار کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ابھی سانحہ کوہستان کا میں متعدد شیعہ باشندوں کی شہادت کے واقعے کو حکومت ابھی تک حل نہیں کرسکی ہے اور وزیر داخلہ رحمن ملک کے کسی وعدے پر عمل نہيں ہوسکا ہے کہ یہ نیا افسوسناک واقعہ اسی سڑک پر پیش آیا ہے جس پر حکومت سے حفاظتی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور حکومت نے بھی اس مطالبے پر عمل کرنے کا وعدہ دیا تھا۔یا درہے کہ چلاس کا مقام وہابیوں کا مرکز اور یزیدیوں کی پناہ گاہ ہیں جہاں سے شیعہ مسلمانوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہیں؛ حکومت نوٹس لینے کے دعوے کرتی ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جاتا جبکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ رحمان ملک جھوٹے وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرے اور گلگت میں فساد کی جڑ اور دشمن اھلبیت قاضی نثار کو فوری لگام دے۔رپورٹ کے مطابق حال ہی میں کالعدم ڈیکليئر ہونے والے دہشت گرد ٹولے "اہل سنت و الجماعت (کالعدم سپاہ صحابہ) کے ایک سرغنے کو حال ہی گرفتار کیا گیا تھا جس پر کالعدم ہونے کے باوجود اسی نام سے، ہڑتال کی کال دی گئی تھی جس کے بعد گلگت میں فائرنگ اور بموں کے حملوں میں کئی افراد جانیں ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں لیکن گلکت کی صحیح صورت حال کیا ہے، اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ بظاہر گلگت میں کسی غیرجانبدار ذریعے سے کوئی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔...../169 ـ 110بشکریہ از شیعہ کلنگ
کالعدم سپاہ صحابہ کے دیشتگردوں کی فائرنگ دو شیعہ مسلمان شہید
کراچی: کالعدم مگر سرگرم دہشت گردوں کی فائرنگ سید نسیم نقوی شہید
ادھر مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے مذمتی کراچی میں 24گھنٹے کے اندر 3شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے،گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے،۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں 24گھنٹے کے اندر 3شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے، گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے، گلگت اور کراچی ملت جعفریہ کے عمائدین کی دہشت گردی میں کالعدم گروہوں اور ریا ستی ادارے ملوث ہیں،صدراور رحمان ملک کی موجودگی میں کالعدم تنظیم کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 3 بے گناہ شیعہ عمائدین کی شہادت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔کالعدم دہشت گرد گروہوں نے کراچی اور گلگت میں بے گناہ افراد کا قتل عام کر کے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس و حدت مسلمین کے سیکریٹری علامہ راجہ ناصر عباس نے کراچی 3شیعہ عمائدین(اصغر جعفری،نسیم عباس،سید ساجد حسین) کی ٹارگٹ کلنگ اور گلگت مسافر بس دہشت گرودں کے حملے میں شہید ہونے والے عمائدین کی شہادت پر اپنے مذمتی بیان میں کیا۔اُن کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ، گلگت، پاراچنار، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو، اور ملک کے دیگر حصوں میں بے گناہ انسانوں اور شیعیان حیدر کرار کا قتل عام حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، اگر دہشت گردی کی اس آگ کو فورا نہ بجھایا گیا تو پھر اس آگ سے عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے ۔ گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے، حکومت دہشت گردوں کی سر پرستی کر رہی ہے۔ گلگت اور کراچی ملت جعفریہ کے عمائدین کی دہشت گردی میں کالعدم گرہوں اور ریاستی ادارے ملوث ہیں۔ کالعدم دہشت گرد گروہوں نے کراچی اور گلگت میں بے گناہ افراد کا قتل عام کر کے ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ کراچی میں 24گھنٹے کے اندر 3شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے، صدراور رحمان ملک کی موجودگی میں کالعدم تنظیم کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے بے گناہ افراد کی شہادت حکومت کی کار کر دگی پر سوالیہ نشان ہے۔دہشت گردوں اور ان کے سر پر ستوں کی سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے ۔علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ کراچی میں شہید ہونے والے اصغر زیدی، نسیم عباس اور ساجد حسین کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں۔ سیاسی، لسانی تنظیمیں شیعہ عمائدین کے قتل عام پر سیاست نہ کریں، شہید ساجد حسین کا تعلق کسی لسانی تنظیم سے نہیں شہید ساجد حسین کے قتل میں عوامی نیشنل پارٹی خود ملوث ہے۔ اُنھوں نے صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا کیلانی،چیف جسٹس اوروفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اس ملک میں شیعہ عمائدین کی نسل کشی کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتے تو اس ملک کی اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو جائیں ورنہ ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
...........
/110
ملاحظہ فرمائیں: